برصغیر پر ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ | ہندو سرکار اور مسلمان

0

برصغیر پر ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ 

 شمالی مشرقی ریاست اترپردیش کے شہر ہریدوار اور امریکی ریاست ورجینیا میں گزشتہ عید الفطر کے موقع پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اظہار نفرت کے دو مختلف واقعات منظر عام پر آئے۔  اسلام کے ان دونوں واقعات پر بھارتی پولیس اور ورجینیا کی پولیس کا رد عمل بالکل متضاد تھا۔  


بھارت کا یہ دعوی کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ایسا فریب ہے جس کو اقوام عالم کی دہائیوں سے شکار چلی آ رہی ہے ۔
 اس جھوٹ کو پھیلانے میں بھارتی ذرائع ابلاغ جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا شامل ہے اس کے علاوہ بھارتی فلمی صنعت نے بھی تقسیم نہیں اور برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے اہم کردار ادا کیا۔

دنیا کے براعظموں میں کوئی بھی براعظم ایسا نہیں جس میں اقلیتی مسلمانوں کی  آبادی 27 کروڑ سے زیادہ ہو ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار بھارت کی کل ایک ارب بائیس کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 21 کروڑ  بتاتے ہیں۔

·        بھارت کا یہ دعوی کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ایسا فریب ہے جس کو اقوام عالم کی دہائیوں سے شکار چلی آ رہی ہے ۔

 

 2001 ء  کی کی گئی مردم شماری کے بھارتی نتائج کو بھی اگر حتمی مان لیاجائے تو  دنیا بھر میں موجود 235 ممالک کی آبادی  کے حوالے سے بھارت میں مسلمانوں کی اقلیت ساتویں نمبر پر آتی ہے ۔اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہوگا جو سیکولر زم اور " ہندو مسلم سکھ عیسائی سب کے سب بھائی ہیں" جیسے بیان کے ذریعے بھارت کے ہندوحکمران 15 اگست1947ء کے بعد دنیا کو دیتے چلے آ رہے ہیں ۔   بھارت جہاںسرکاری اعداد و شمار کے مطابق  تیز ترین اقتصادی ترقی کے باوجود غربت بھارت کا بنیادی مسئلہ ہے۔  اور اب بھی بھارت کے نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔



بھارت میں نچلی ذات کے ہندو اور مسلمان اقلیت سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔ چلیں  نچلی ذات کے ہندوؤں کی غربت تو سمجھ آتی ہے کہ ذات پات  پر استوار ہندو رسم و رواج  اچھوتوں اور دلتوں کو کسی بھی طرح کے انسانی حقوق کا حقدار نہیں سمجھتا، ایسے میں مسلمان کیوں بدترین غربت کا شکار ہے۔  بھارتی اعدادو شمار کے مطابق مسلمان اقلیت میں خواندگی صرف 47.7 فیصد  ہے جو قومی سطح پر اوسط 64.8 فیصد  مقرر  کی گئی ہے ۔ عیسائی اقلیت 84فیصد خواندہ ہے۔ جبکہ بدھ مت کے ماننے والے 74.5 فیصد سکھ 67.5فیصد ہے۔ ہندوؤں میں خواندگی63.5فیصد ہے۔ اگر اچھوتوں کو الگ کر دیا جائے تو ہندوؤں میں خواندگی بہت کم تعداد کی عیسائی آبادی کے برابر جا پہنچتی ہے۔  اعداد و شمار میں بھارت سرکار تسلیم کرتی ہے کہ مسلمان بھارت میں سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہیں۔  تو پھر سوال ابھرتا ہے کہ کس طرح کی جمہوریت ہے جس میں ایک طرح  وسائل کی تقسیم میں ڈنڈی مارنے کے لیے مسلمانوں کی آبادی 6 سے 7 کروڑ کم ظاہر کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود نہ تو مسلمانوں کے لیے وسائل ہیں نہ تعلیم اور نہ کاروبار کے وسائل ہیں۔ اکثریت چھوٹے موٹے کاروبار اور نچلی سطح کی زندگی گزار رہے ہیں۔

آج بھارت میں معاشی ترقی جو صرف چند بڑے صنعتی اداروں اور مخصوص شہروں میں جدید تعمیرات کو مثال بنا کر پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانیوں کو بھارت کا سفر ضرور کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے بھارت میں غربت اور مسلمانوں کی پسماندگی کا نظارہ کر سکیں۔  بھارت میں مسلمان اقلیتوں پر ہندو انتہا پسند اور ہندو حکمرانوں کس  طرح سے مظالم ڈھا رہے ہیں۔  ایک طرف اسلام دشمنی کی بنا پر انہیں وہ ظلم و بربریت کا نشانہ بنائے جانے کا عمل جاری ہے تو دوسری طرف ان کے لیے تعلیم کا حصول ہو یا کاروبار کے وسائل اور مواقع محدود ہیں ۔

 یہ حقائق بات کی وزارت داخلہ کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں کہ بھارت کی تمام ریاستوں میں قائم جیلوں میں قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد میں مسلمانوں کی ہے ۔ اس طرح کی اطلاعات  سے تمام مسلمانوں کو دنیا کے سامنے  جرائم پیشہ بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں ۔  جبکہ قیدیوں کی فلاح کے لیے لیے بھارت میں کام کرنے والی این جی او کا کہنا ہے کہ مسلمان کیلئے میں اکثریت بیگناہ افراد کی ہے ۔ ایسے بھی ہیں جو وکیل  یا عدالتوں کی داد رسی کے لیے وسائل ہی نہیں رکھتے ، یا پھر جہالت کی وجہ سے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے درخواست لکھنا تو دور کی بات اپنا نام تک نہیں  لکھ سکتے ہیں ۔ انہیں مسلمان قیدیوں کی بے گناہی سے کوئی غرض نہیں ۔  وہ برصغیر  پر مسلمانوں  کی ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ بھارت میں آباد مسلمانوں سے لے رہے ہیں ۔

 بھارت کا پورا سیاسی اور انتظامی نظام مسلمان اقلیتوں کو پسماندہ رکھنے کے لیے متحد ہے۔  اترپردیش کے شہر ہریدوار میں ہندو انتہاء پسند مذہبی پروہت اور بی جے پی کے رہنما نارسنگھا نند سرسوتی کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی گئی ہرزہ سرائی کی طرف۔ نارسنگھا نند سرسوتی اترپردیش میں دولت مندسوامی کے طور پر مشہور ہے۔ اس کی دولت کی وجہ ہریدوار میں موجود دو مندر ہیں جس کی کروڑوں کی آمدنی ہے۔ یہ راشٹرسیوک سنگھ اور دیگر انتہاء تنظیموں اور گروپوں کی مالی امداد بھی فراہم کرتا ہے ۔



گزشتہ برس اس نے دیگر ہندوؤں کو ساتھ ملا کر ہریدوار کے علاوہ اترپردیش کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی۔ اپنی تقاریر میں  اس نے خصوصی طور پر منعقد کیے گئے جلسوں میں مسلمانوں  کے خلاف ہندوؤں کو و ترغیب دیتے ہوئے پنڈال کے شرکاء سے حلف لیا تھا کہ وہ بھارت سے اسلام اور مسلمانوں کے خاتمے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں گے ۔ ان کا سیاسی  اور سماجی بائیکاٹ کریں  گے جس کے بعد بھارت کے طول و عرض میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ہندو آبادیوں میں مسلمانوں کے خلاف حلف لینے کے باقاعدہ مہم چلائی گئی تھی ۔ لیکن زیادہ  خطرناک نارسنگھا نند سرسوتی کا ہندوؤں  کے لیے پیغام تھا کہ اگر بھارت کا ہر بندہ کم از کم سو مسلمانوں کو اپنی زندگی میں قتل کرنے کا بیڑا اٹھائے تو بھارت کے مسلمانوں سے جلد ہی پاک کیا جا سکتا ہے۔ 

اس میں منعقد کیے گئے اپنے جلسوں میں انکشاف کیا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 30 کروڑ ہے مسلمانوں کی آبادی کم ظاہر  کرنے پر اس نے مودی سرکار کو برا بھلا کہنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔  اپنی تقریروں میں اس نے بھارتی فوجیوں اور پولیس کے علاوہ تاجروں ،  ڈاکٹروں اور سرکاری ملازمین کو پیغام دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی نسل کشی کو اہم مذہبی فریضہ سمجھ کر اس پر عمل کریں۔  بعد میں ان تقریر کے خلاف مسلمانوں کے علاوہ بہت سے ہندو طبقات نے شدید احتجاج کیا تھا۔

  ہندو دانشوروں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھے تھے اگر نارسنگھا نند سرسوتی   کی سرپرستی میں ہندو مت  کے دس سوامیوں اور پروہتوں کی طرف سے مسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے کی گئی تقریر پر پابندی نہ لگائی گئی تو بھارت میں خانہ جنگی پھوٹ پڑے گی ۔  جس پر قابو پانا بھارت سرکار کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ سوامی نارسنگھا نند سرسوتی کی تقاریر ، بھارت میں مسلمانوں  کے خلاف حلف برداری  کے واقعات پر مغربی میڈیا نے خصوصی پروگرام نشر کیے تھے۔  اس کے بعد اقوام متحدہ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا ۔ دہلی   میں مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے بھی اپنے اپنے ممالک  کی طرف  مراسلے ارسال کیے گئے تھے۔

 ہر طرف سے تنقید کے بعد بھارت سرکار نے مزید عالمی دباؤ سے بچنے کے لئےنارسنگھا نند سرسوتی   کے خلاف نمائشی قسم کے مقدمات قائم کر کے اس کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے علاوہ خبریں چلائی گئی تھی کہ نارسنگھا نند سرسوتی  کو ہریدوار پولیس اسٹیشن بلا کر حراست میں لے لیا تھا ۔  ان بیانات کے بعد نارسنگھا نند سرسوتی  ہندومت سے بغاوت قراردے کر نریندر سرکار کے خلاف دھمکی آمیز بیان جاری کیا تو اسے اپنی سیاست کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے نریندر مودی نے اپنا خصوصی وفد نارسنگھا نند  سے  ملاقات کے لیے بھیجا تھا  جس کے بعد خاموشی چھا گئی تھی ۔ لیکن اب ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد نارسنگھا نند سرسوتی پھر سرگرم ہو گیا ہے۔ اب اس کا ہدف صرف بھارت میں مسلمان اقلیت نہیں بلکہ مکہ تک بھارت کو وسعت دینااس نے ہندوؤں  کا نصب العین قرار دے ڈالا ہے۔



Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)